سکون قلب پاتا ہوں در جعفر مظفر پر - Abdulamin Barkaati

Naat Shareef, Manqabat

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Sunday, 11 January 2026

سکون قلب پاتا ہوں در جعفر مظفر پر



سکون قلب پاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر
مقدر کو جگاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

زمیں سجدے میں رہتی ہے فلک تعظیم کرتا ہے
سدا منظر یہ پاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

محبت بول اُٹھتی ہے عقیدت رقص کرتی ہے
میں جب نغمے سناتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہاں نظریں جھکی سب کی یہاں پلکیں بچھی سب کی
میں اپنا سر جھکاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

جہاں سے کرب مٹتا ہے جہاں دل جگمگاتا ہے
میں وہ منظر بھی پاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

بشارت دی تھی آقا نے یہ دونوں شیر آئیں گے
میں اس جلوے کو پاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

شہیدوں کے لہو سے خاک پٹن کی مہک اٹھی
میں وہ خوشبو بھی پاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

وفا کی داستانوں سے زمیں پٹن کی شاہد ہے
میں یہ منظر دکھاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہ کم عمری کے شہزادے مگر جرأت کا کیا کہنا
یہ افسانہ سناتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہاں سے قادری نسبت مجھے ملتی ہے تحفے میں
میں یہ اعزاز پاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہ وہ در ہے جو آقا کے درِ اقدس سے جُڑتا ہے
میں ہر نسبت بڑھاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

مجھے جب مدح کہنی ہو علی کے پیارے بیٹے کی
قصیدے میں سجاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہی در ہے جہاں ولیوں کا آنا جانا رہتا ہے
میں خود محسوس کرتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہی وہ در ہے جس پر خواب ڈھلتے ہیں حقیقت میں
میں قسمت کو جگاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

عطا کی شان تو دیکھو مرے دامن کو بھرتے ہیں
میں تو کچھ بھی نہ کہتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہاں سنتے ہیں سب دل کی زبانوں کی نہیں پروا
میں دل سے بات کرتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

یہاں سب بول اُٹھتے ہیں "علی کا فیض جاری ہے"
میں یہ نعرہ لگاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

مرے جعفر سے نسبت کی عطا کتنی نرالی ہے
میں جو چاہوں وہ پاتا ہوں درِ جعفر مظفر پر

امینِ قادری ہوں میں فقیر عشقِ سید کا
میں جیتا ہوں کہ مرتا ہوں درِ جعفر مظفر پر


کلام
عبدالامین برکاتی
احمدآباد گجرات

No comments:

Post a Comment