ذکرِ سرکار سے محفل کا نظارہ چمکا
عاشقوں کے لئے قسمت کا ستارہ چمکا
عشقِ احمد کی کرن جب بھی اترتی دل پر
چرخِ افکار پہ مدحت کا ستارہ چمکا
نامِ سرکار لبوں پر جو صدا بن کے آیا
دل کی تاریکی میں ایماں کا ستارہ چمکا
ذکرِ سرکار سے مہکی مرے دل کی محفل
بزمِ ایماں کا ہر اک گوشہ دوبارہ چمکا
چوم لی خاکِ مدینہ تو ملی ایسی خوشبو
زندگی بھر مری تقدیر کا سہارا چمکا
عشقِ طہٰ نے مرا دل بھی سنوارا ایسا
ذرے ذرے میں مدینے کا نظارہ چمکا
مدحتِ خیرالبشر جب بھی زباں پر آئی
دل کی بزمِ شبِ غم میں بھی اُجالا چمکا
بات یہ عشقِ بلالی نے کرائی ظاہر
ان کی یادوں میں جو تڑپا وہ دِوانہ چمکا
آپ سے لیتا ہے خیرات زمانہ آقا
آپ کے صدقے ہی یہ سارا زمانہ چمکا
جو ہوا سرورِ کونین کا سچا عاشق
اندھیروں میں بھی حقیقت کا اجالا چمکا
مدحتِ سرورِ عالم میں امیں جب بولا
اوج پر تیرے مقدر کا ستارہ چمکا
کلام
عبد الامین برکاتی
احمدآباد گجرات
No comments:
Post a Comment